|
تحریر و پیشکش تبیان
|
|
منگل, 08 مئی 2012 09:45 |
|
سلفیّہ كسے كھتے ھیں؟ سلفیہ دراصل چوتھی صدی ہجری میں منظرعام پر آنے والے حنبلی مذھب کے ماننے والوں کے ایک گروہ کا نام تھا جو اپنے عقائد میں " احمد حنبل " کے پیروکار تھے اور خود کو " احمد حنبل " سے نسبت دیتے تھے ۔ لیکن بعض حنبلی علماء نے اس نسبت پر اعتراض بھی کیا ۔
اس زمانے میں دو فرقے وجود میں آ یے۔ ایک کا نام " سلفی " اور دوسرا " اشاعرہ " تھا ۔ ان دونوں کے درمیان تناؤ پایا جاتا تھا اور دونوں ہی مذھب سلف صالح کی دعوت دیتے تھے ۔
|
|
آخری تازہ کاری بوقت منگل, 08 مئی 2012 09:48 |
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
تحریر بقلم: ف۔ح۔مہدوی
|
|
منگل, 08 مئی 2012 08:55 |
|
شیعہ شرک سے دوری کرتا ہے (ابنا) بقلم: ف۔ح۔مہدوی شرک" کیا ہے؟ مشرک کون ہے؟ شرک یہ ہے کہ کوئی اللہ تعالی کی ذات یا صفات خاصہ میں کسی کو شریک قرار دے، قدیم، قادر، مطلق، حی، مرید، مدرک متکلم، عالم، خدا کی صفات ثبوتیہ ہیں ۔جن میں کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اگر خدا خالق و مالک ہے اب کسی اور کو ان صفات سے بلا قید، متصف سمجھا جائے تو یہ شرک ہے۔ اور اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے تو وہ شرک میں مبتلا ہے۔ شیعہ اعتقاد کے مطابق اللہ تعالی "لا مؤثر في الوجود إلا الله سبحانه"، عالم وجود میں اللہ سبحانہ و تعالی کے سوا کوئی بھی مؤثر نہیں ہے اور اللہ کے سوا جتنے بھی انبیاء اور اولیاء اور اقطاب و علماء و عرفاء یا عام انسان یا دیگر موجودات بھی ہیں وہ سب اللہ تعالی کی مخلوق ہیں چنانچہ ان کو وجود میں مؤثر سمجھنا شرک ہے اور کہیں کوئی نبی یا کوئی ولی کوئی معجزہ دکھاتا یا کائنات میں کوئی تصرف کرتا نظر آئے تو جان لینا چاہئے کہ اس کو تصرف کا یہ حق اور یہ اختیار اللہ تعالی نے عطا فرمایا ہے اور یہ تصرف ان کا ذاتی نہیں ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے تابعدار اسی لئے ہیں کہ وہ "اللہ تعالی کے خاص بندے ہیں" اور ان کا اعتبار اللہ تعالی کی ذات سے براہ راست وابستگی کی بنا پر ہے؛ اب اگر ہم ان کی مدح سرائی میں حد سے بڑھ جائیں. متقی ہندی علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا: "عن علي قال : يهلك في رجلان : محب مُفرِط ، و مبغض مُفَرِّط"۔ (1) دو آدمی میری وجہ سے نابود ہوجائیں گے: وہ جو میری محبت میں غُلُو کا ارتکاب کرے گا اور وہ جو میری دشمنی میں زیادہ روی کرے گا۔ اور نہج البلاغہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ (2) میری وجہ سے دو لوگ نابود ہوجائیں گے وہ جو میری محبت میں غلو کریں گے (اور مجھے اپنے درجے سے بڑھا کر (معاذاللہ) الوہیت کے قائل ہوں گے) اور وہ جو میری مخالفت میں بغض اور دشمنی کی انتہا تک پہنچیں گے۔
|
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
اہل بیت علیھم السلام کی عزاداری |
|
|
|
|
تحریر محمد اصغر عسکری
|
|
پیر, 30 اپریل 2012 20:11 |
|
اہل بیت علیھم السلام کی عزاداری موضوع:پیغمبر(ص)واھل بیت(ع) منبع: سایٹ شیعه شناسی مصنف:محمد اصغر عسکری خلاصہ : یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آئمہ اطہار(ع) نے حالات زندگی کالحاظ رکھتے ہوئے اپنے تبلیغی انداز کوہمیشہ زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا ہے اوران کااصول تبلیغ یہی تھا کہ بات کوحالات کے مطابق ہوناچاہئے ورنہ بے اثر ہوجائے گی بلکہ بسااوقات مضراورنقصان دہ بھی ثابت ہوگی لہذا انھیں حالات کے تحت تھاکہ کبھی ایک امام(ع) نے خطبہ کی زبان اختیار کی اورکبھی دعاکی لیکن واقعۂ کربلا کے بعد تبلیغ کی ایک اورزبان ایجاد ہوگی جس کانام عزاداری تھا ۔
متن: اہل بیت علیھم السلام کی عزاداری
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آئمہ اطہار(ع) نے حالات زندگی کالحاظ رکھتے ہوئے اپنے تبلیغی انداز کوہمیشہ زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا ہے اوران کااصول تبلیغ یہی تھا کہ بات کوحالات کے مطابق ہوناچاہئے ورنہ بے اثر ہوجائے گی بلکہ بسااوقات مضراورنقصان دہ بھی ثابت ہوگی لہذا انھیں حالات کے تحت تھاکہ کبھی ایک امام(ع) نے خطبہ کی زبان اختیار کی اورکبھی دعاکی لیکن واقعۂ کربلا کے بعد تبلیغ کی ایک اورزبان ایجاد ہوگی جس کانام عزاداری تھا ۔
|
|
آخری تازہ کاری بوقت منگل, 01 مئی 2012 00:11 |
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
حضرت فاطمہ کی شہادت جو افسانہ نہیں ہے |
|
|
|
|
تحریر اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی
|
|
ہفتہ, 28 اپریل 2012 21:01 |
|
اسلام کے سینے پر ابدی داغ؛ حضرت فاطمہ کی شہادت جو افسانہ نہیں ہے

سیدہ عالم نے اپنے والد ماجد کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری کو جام شہادت نوش کیا؛ جنازہ رات کو اٹھا،امیرالمؤمنین (ع) نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا. صرف بنی ہاشم اور سلمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کیا. ترجمه: ف.ح.مهدوی
اشارہ: حال ہی میں ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں ایک تاریخ اسلام سے ناواقف شخص نے «فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کا افسانہ شہادت» کے عنوان کے تحت ایک مضمون لکھا ہے۔ اس نے اپنے مضمون میں سیدہ سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب بیان کرنے کے بعد آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا انکار کرکے آپ کی بے حرمتی کو چھپانے کی کوشش کی ہے.
|
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
|
|
<< شروع < پچھلا 1 2 3 4 5 اگلا > آخر >>
|
|
صفحہ 1 کا 5 |